سلطنت تاوولارا
سلطنت تاوولارا Regno di Tavolara | |
|---|---|
| خُرد ملک (غیر تسلیم شدہ وجود) | |
| مدعا بہا علاقہ | 5 کلومیٹر2 (1.9 مربع میل) |
| مدعی | جوزپے پاؤلو اول |
| مدعا بہا تاریخ | 1836ء تا حال |
تاوولارا جو ساردینیا کے شمال مشرقی ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع ایک ننھا سا جزیرہ ہے، وہاں ایک انوکھی سی ریاست سلطنتِ تاوولارا (اطالوی: Regno di Tavolara، انگریزی: Kingdom of Tavolara) کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اس خود معلنہ خُرد ملک کو برتولیونی خاندان نے قائم کیا اور روایت کے مطابق اسے باقاعدہ منظوری سرڈینیا کے بادشاہ کارلو البرتو کی طرف سے بھی ملی تھی۔ دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی بادشاہتوں میں سے ایک ہے۔
قدیم زمانوں میں یہ جزیرہ ’ہرمیہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ پوپ پونتیان جو 235ء میں مستعفی ہونے کے بعد جلاوطن کیے گئے، اسی جزیرے پر انتقال کر گئے۔ یہ شاید وہی جزیرہ تھا جسے 848ء–849ء میں کچھ عرب جہازرانوں نے قریبی ساحلوں پر حملوں کے لیے اپنا اڈا بنایا تھا۔
1815ء میں ناپولی سلطنت پر واپس تخت پانے کی کوشش کے دوران میں نپولین کے سالے جواکیم مورا یہاں پہنچے۔ اس وقت جزیرہ خالی پڑا تھا۔
کچھ ہی عرصے بعد ’جوزپے برتولیونی‘ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس جزیرے کے بادشاہ ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ’پاؤلو اول‘ نے تخت سنبھالا۔ پاؤلو کے دور میں 1861ء میں اطالوی حکومت نے جزیرے کے شمال مشرقی کنارے پر ایک لائٹ ہاؤس بنانے کے لیے 12،000 لیرا ادا کیے۔ یہ لائٹ ہاؤس 1868ء میں روشنی دینے لگا۔
1886ء میں جب پاؤلو اول کا انتقال ہوا، تو کئی اخبارات نے دعویٰ کیا کہ ان کی وصیت کے مطابق ’جزیرہ اب ایک جمہوریہ بن چکا ہے۔‘ نیویارک ٹائمز کے مطابق 1887ء میں ایک حکومت قائم ہوئی جس میں صدر اور چھ رکنی کونسل شامل تھی، جسے ہر چھ سال بعد عوامی ووٹ سے منتخب کیا جاتا تھا اور یہ حق مرد و عورت دونوں کو حاصل تھا۔ 1896ء میں تیسرے صدارتی انتخابات کی بھی خبریں آئیں، مگر ان سب کے باوجود برتولیونی خاندان کی بادشاہت ختم نہ ہوئی۔
تیسرے بادشاہ ’کارلو اول‘ تھے جن کے بعد 1928ء میں ان کے بیٹے ’پاؤلو دوم‘ بادشاہ بنے۔ پاؤلو دوم جزیرے سے باہر چلے گئے اور اپنی پھوپھی ’مریانجیلا‘ کو بطور نگران چھوڑ گئے۔ ماریانجیلا 1934ء میں انتقال کر گئیں اور جزیرہ باقاعدہ طور پر اٹلی کا حصہ بن گیا۔ تاہم ’’پاؤلو دوم‘‘ نے بادشاہی کا دعویٰ برقرار رکھا یہاں تک کہ 1962ء میں ان کی وفات ہوئی۔ اسی سال جزیرے پر ایک نیٹو اسٹیشن بھی قائم ہوا۔
آج ’برتولیونی خاندان‘ کے موجودہ سربراہ ’تونینو برتولیونی‘ ہیں، جو جزیرے پر ’’دا تونینو‘‘ کے نام سے ایک ریستوران چلاتے ہیں۔ سلطنتِ تاوولارا کے بین الاقوامی معاملات کی نمائندگی ’ارنستو جیریمیا‘ کرتے ہیں، جنھوں نے جزیرے کی تاریخ پر کتاب بھی لکھی ہے۔
’’پاؤلو اول‘‘ کی قبر آج بھی جزیرے کے قبرستان میں موجود ہے، جس پر ایک تاج رکھا ہوا ہے۔