مندرجات کا رخ کریں

ما ورا النہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ماورا النہر سے رجوع مکرر)
نقشہ جس میں جدید ماوراء النہر کو ظاہر کیا گیا ہے

ماوراء النہر (Transoxiana) وسط ایشیا کے اس تاریخی و جغرافیائی خطے کا نام ہے جو آمو دریا (جیحوں) اور سیر دریا (سیحوں) کے درمیان واقع ہے، جسے قدیم دور میں "توران" بھی کہا جاتا تھا۔[1][2] موجودہ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ ازبکستان، تاجکستان اور جنوب مغربی قازقستان پر مشتمل ہے۔[3]

لغوی و جغرافیائی حقیقت

[ترمیم]

عربی اصطلاح میں "ماوراء النہر" کا لغوی مطلب دریائے جیحوں کے پار کا علاقہ ہے۔[1][4] مسلمانوں کی آمد سے قبل اس خطے کو "بلادِ ہیاطلہ" کہا جاتا تھا، تاہم اسلامی فتوحات کے بعد اس کا نام مستقل طور پر "ماوراء النہر" رکھ دیا گیا۔[1][4] اس کے برعکس، دریائے جیحوں کے مغربی کنارے کا علاقہ خراسان اور "ولایۃ خوارزم" کہلاتا تھا، جو ایک الگ خود مختار اقلیم مانا جاتا تھا۔[1][4] جیحون خراسان کے پیچھے بلخ کے مقام پر بہتا ہے اور اس کے پار کا علاقہ ماوراء النہر کہلاتا ہے۔[5]

اہم شہر اور آبادیاں

[ترمیم]

ماوراء النہر کا خطہ اپنی سرسبزی، شادابی اور گنجان آبادی کے لیے پورے عرب و عجم میں ممتاز تھا، جہاں ہر چند فاصلے پر کوئی نہ کوئی بڑا شہر یا سرسبز دیہات موجود تھا۔[1][4] اس خطے کے اہم ترین شہروں میں سمرقند، بخارا، خجند، اشروسنہ، ترمذ اور تاشقند شامل ہیں۔[6]

  • سمرقند: دریائے سغد (زرفشان) کے کنارے واقع یہ شہر یونانی دور میں "مرکندہ" کہلاتا تھا اور سکندر اعظم نے اسے فتح کیا تھا۔[7]
  • بخارا: ماوراء النہر کا ایک نہایت قدیم اور مرکزی شہر، جس کے مضافات میں "نخشب" اور "مایمرغ" جیسے تاریخی قصبات واقع تھے۔[8]
  • تاشقند: دریائے سیحون کے ایک معاون دریا پر واقع، قرونِ وسطیٰ میں چین اور مغرب کے درمیان اہم تجارتی شاہراہ رہا۔[9]
  • اس کے علاوہ فرغانہ کی وادی، بلخ کے نواحی دیہات (مَستینان، ملبران) اور سمنجان و روب بھی اسی خطے سے جغرافیائی طور پر جڑے تھے۔[10]

قدیم دور میں یہ خطہ غوز اور کارلوک ترکوں کا مسکن تھا اور یہاں 10,000 سے زائد سرائیں (رباط) مسافروں کے لیے قائم تھیں۔[11]

اسلامی فتوحات کا دور

[ترمیم]

اسلام کی آمد سے قبل یہاں زرتشتی، مانوی، عیسائی اور نسطوری مذاہب کے پیروکار آباد تھے۔[12] فتوحات کا آغاز حضرت عثمان بن عفان کے دور میں ہوا۔[13] حضرت معاویہ بن ابو سفیان کے دور میں سعید بن عثمان نے جیحون عبور کر کے بخارا، سمرقند اور ترمذ کے حکمرانوں سے صلح کی، مگر یہ عارضی ثابت ہوئی۔[14] مستقل فتح خلیفہ الولید بن عبد الملک کے دور میں مکمل ہوئی، جب سپہ سالار قتيبة بن مسلم الباہلی نے 87ھ تا 94ھ اس پورے خطے کو فتح کر کے چین کی سرحدوں تک رسائی حاصل کی؛ ان کا مزار آج بھی اندیجان کے قریب موجود ہے۔[15] فتحِ سمرقند کے موقع پر خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے مقامی غیر مسلموں کی شکایت پر اسلامی لشکر کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا کیونکہ جنگ سے قبل اسلام یا جزیہ کی دعوت نہیں دی گئی تھی، جس سے متاثر ہو کر کثیر آبادی مسلمان ہو گئی۔[16]

علمی و ثقافتی عروج

[ترمیم]

اسلام کی آمد کے بعد ماوراء النہر علم و حکمت کا گہوارہ بن گیا۔[17] سن 287ھ میں قائم ہونے والی سامانی سلطنت کے زیرِ سایہ اسے بے پناہ عروج حاصل ہوا۔[18] یہ خطہ امام محمد بن اسماعیل البخاری، امام مسلم، امام ابو داود اور امام ترمذی جیسے جلیل القدر محدثین کا مسکن رہا اور سلف صالحین اسے کثرتِ علما کی وجہ سے "بلادِ تقویٰ" کہتے تھے۔[19]

اس خطے سے وابستہ نامور علما میں امام ابو منصور الماتریدی (سمرقند کے محلہ ماترید سے، وفات 333ھ)، امام زمخشری، علامہ نسفی، عبد القاہر الجرجانی، سعد الدین تفتازانی، ابو نصر الفارابی، ابن سینا، البیرونی، الخوارزمی اور امام سرخسی شامل ہیں۔[20] اسی طرح حسین بن عبد اللہ السمرقندی اور اسماعیل بن ابراہیم الروبی جیسے محدثین بھی اس خطے سے تعلق رکھتے تھے۔[21]

تیمور لنگ کے دور میں سمرقند کو دار الحکومت بنایا گیا جہاں علمِ فلکیات کو غیر معمولی ترقی ملی؛ الغ بیگ نے یہاں ایک عظیم رصد گاہ قائم کی جس کے نتیجے میں "زیجِ سلطانی" تیار ہوا۔[22] فارسی کے معروف شاعر فردوسی کے شاہنامے میں بھی ماوراء النہر کا ذکر ملتا ہے۔

منگول حملہ اور بعد کا دور

[ترمیم]

سن 617ھ (1219ء) میں چنگیز خان نے خوارزم شاہی سلطنت کی فتح کے موقع پر ماوراء النہر پر حملہ کر کے سمرقند، بخارا اور خوارزم کو شدید خونریزی کے بعد تباہ کر دیا۔[23] چنگیز خان نے وفات سے قبل یہ علاقہ اپنے بیٹے چغتائی خان کو سونپ دیا، جس نے یہاں چغتائی سلطنت قائم کی۔ بعد ازاں امیر تیمور نے سمرقند کو تیموری سلطنت کا دار الحکومت بنایا۔ تیمور کے جانشینوں کے بعد یہاں کے باشندوں نے سائنسی علوم کو ترک کر کے توجہ محض روایتی فقہ و نحو پر مرکوز کر لی، جس سے علمی زوال کا آغاز ہوا۔[24]

جدید دور

[ترمیم]

1917ء سے 1989ء تک یہ خطہ روسی و سوویت تسلط میں رہا، جس دوران مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھائے گئے اور ان کی اسلامی شناخت مٹا کر شیوعیت مسلط کرنے کی کوششیں کی گئیں، جن کے باوجود مسلمانوں نے چوری چھپے دینی تعلیم جاری رکھی۔[25] سوویت اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ خطہ آزاد ہوا اور اب بالخصوص ازبکستان اپنی اسلامی روایات اور علمی ورثے کی طرف تیزی سے لوٹ رہا ہے۔[26]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 محمد بن علی البروسوی (2006)۔ أوضح المسالك إلى معرفة البلدان والممالك۔ بیروت: دار الغرب الإسلامي۔ ج 1۔ ص 575
  2. ↑ سفر الحوالی (2000)۔ دروس للشيخ سفر الحوالي۔ جدہ: دار الوجیہ۔ ج 1۔ ص 33
  3. ↑ شمس الدین۔ شرح کلام جامی۔ لاہور: مشتاق بک کارنر۔ ص 1120
  4. 1 2 3 4 ابن عبد الحق البغدادي (1992)۔ مراصد الاطلاع على اسماء الامكنة والبقاع۔ بیروت: دار الجيل۔ ج 3۔ ص 1222
  5. ↑ ابن حجر (1995)۔ الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني۔ صنعاء: وزارة الأوقاف۔ ج 12۔ ص 6322
  6. ↑ مستشرقین (1998)۔ موجز دائرة المعارف الإسلامية۔ قاہرہ: وزارة الثقافة۔ ج 5۔ ص 1584
  7. ↑ مستشرقین (1998)۔ موجز دائرة المعارف الإسلامية۔ قاہرہ: وزارة الثقافة۔ ج 5۔ ص 1584
  8. ↑ محمد بن علی البروسوی (2006)۔ أوضح المسالك إلى معرفة البلدان والممالك۔ بیروت: دار الغرب الإسلامي۔ ج 1۔ ص 576
  9. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 3۔ ص 58
  10. ↑ یاقوت الحموی (1995)۔ معجم البلدان۔ بیروت: دار صادر۔ ج 5۔ ص 122
  11. ↑ محمد کرد علی (1910)۔ مجلة المقتبس۔ دمشق: مطبعۃ المقتبس۔ ج 4۔ ص 15
  12. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 4۔ ص 421
  13. ↑ سفر الحوالی (2000)۔ دروس للشيخ سفر الحوالي۔ جدہ: دار الوجیہ۔ ج 2۔ ص 7
  14. ↑ ابن حزم (1987)۔ رسائل ابن حزم۔ بیروت: المؤسسة العربية للدراسات والنشر۔ ج 2۔ ص 131
  15. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 3۔ ص 58
  16. ↑ محمد حسان (1999)۔ دروس للشيخ محمد حسان۔ منصورہ: دار الأرقم۔ ج 1۔ ص 6
  17. ↑ جامعہ اسلامیہ (1968)۔ مجلة الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة۔ مدینہ منورہ: الجامعة الإسلامية۔ ج 1۔ ص 172
  18. ↑ مستشرقین (1998)۔ موجز دائرة المعارف الإسلامية۔ قاہرہ: وزارة الثقافة۔ ج 17۔ ص 5453
  19. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 10۔ ص 39
  20. ↑ مستشرقین (1998)۔ موجز دائرة المعارف الإسلامية۔ قاہرہ: وزارة الثقافة۔ ج 19۔ ص 5862
  21. ↑ عمر رضا کحالہ (1957)۔ معجم المؤلفين۔ بیروت: دار إحياء التراث العربي۔ ج 4۔ ص 22
  22. ↑ ادارہ بحوث (1978)۔ مجلة البحوث الإسلامية۔ ریاض: رئاسة إدارات البحوث العلمية والإفتاء۔ ج 1۔ ص 387
  23. ↑ سفر الحوالی (2000)۔ دروس للشيخ سفر الحوالي۔ جدہ: دار الوجیہ۔ ج 1۔ ص 33
  24. ↑ محمد کرد علی (1910)۔ مجلة المقتبس۔ دمشق: مطبعۃ المقتبس۔ ج 2۔ ص 59
  25. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 3۔ ص 58
  26. ↑ ادارہ البیان (1993)۔ مجلة البيان۔ لندن: المنتدی الإسلامی۔ ج 8۔ ص 40