بنو خولان
| بنو خولان | |
|---|---|
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | |
| قابل ذکر | |
| درستی - ترمیم | |
بنو خولان (خطِ مسند: 𐩭𐩥𐩡𐩬) ایک قدیم قحطانی عرب قبیلہ ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے نزدیک یہ یمنِ قدیم کے اُن قبائل میں سے ہے جو سبا اور معین کے ہم عصر تھے۔ یمن میں خولان کے نام سے دو بڑے قبائل پائے جاتے ہیں: خولان (طیال/عالیہ): یہ قبیلہ مارب، صنعاء اور بیضاء میں آباد ہے اور ان کا ذکر سبا کے بادشاہوں کے نقوش میں “خولن” کے نام سے پہلی بار ساتویں صدی قبل مسیح میں ملتا ہے۔ خولان (بن عامر/عمرو): یہ قبیلہ جازان کے علاقے اور صوبہ صعدہ میں پایا جاتا ہے اور ہمدان کے بادشاہوں کے نقوش میں “خولن جددن” (یعنی خولان جدید) کے نام سے مذکور ہے۔ [1]
نسب
[ترمیم]خولان کے نسب کے بارے میں نسب دانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بدر الدین عینی نقل کرتے ہیں کہ ہمْدانی نے اپنی کتاب “اكلیل” میں لکھا:[2] “خولان بن عمرو بن حاف بن قضاعہ اور خولان بن عمرو بن مالک بن حارث بن مرہ بن ادد۔” مزید یہ کہ: “خولان حضور اور خولان ردع، یہ قحطان کی اولاد میں سے ہیں۔” اس طرح ہمْدانی نے خولان کو تین مختلف نسبوں میں تقسیم کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ “خولان” دراصل ایک قبائلی اتحاد (حلف) کا نام تھا۔
کچھ مستشرقین جیسے الوئس اشپرنگر اور کارستن نیبور نے یہ رائے دی کہ خولان دراصل “حوِیلہ بن کوش بن حام” ہے، جو تورات میں مذکور ایک قبیلہ ہے۔ اس رائے کی تائید بعض عرب مؤرخین نے بھی کی، لیکن جواد علی نے اس سے اختلاف کیا۔ قدیم سبائی کتبوں (مسند خط) میں خولان اور سنحان کا کئی مرتبہ ذکر ملتا ہے اور اکثر دونوں کا نام ایک ساتھ آتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں قبائل ایک ہی علاقے کے قریب آباد تھے۔ یہ بات صنعاء میں خولان طیال اور سنحان اور اسی طرح سراة کے علاقے میں خولان اور سنحان قحطان پر بھی صادق آتی ہے۔[3] ،[4]،[5].[6]
جواد علی کے مطابق: “خولان ایک بڑا اور طاقتور قبیلہ ہے جس کا ذکر جنوبی عرب کی متعدد تحریروں میں ملتا ہے۔ معینی دور میں ان کا نام نمایاں تھا۔ یہ بھی ذکر ہے کہ انھوں نے سبائیوں کے ساتھ مل کر ایک معینی قافلے پر حملہ کیا جس کی قیادت ‘کبیران’ کر رہا تھا۔ معینیوں نے اپنے دیوتاؤں کا شکر ادا کیا کہ وہ قافلہ محفوظ رہا۔ خولان ان عرب قبائل میں سے ہے جو آج تک معروف ہیں اور ان کی تاریخ قدیم ہے جسے ہم پہلی ہزارہ قبل مسیح تک لے جا سکتے ہیں۔”[7][8]
نسب دانوں نے خولان کو مختلف نسبی سلسلوں میں شامل کیا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ خولان بن قحطان ہیں، بعض کے نزدیک قضاعہ سے ہیں اور کچھ کے نزدیک کِہلان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمْدانی کے مطابق خولان کی دو بڑی شاخوں میں سے خولان عاليہ کِہلانی ہیں، جبکہ خولان صعدہ کو وہ قضاعی حميری قرار دیتے ہیں، یعنی وہ دونوں کے درمیان نسبی فرق کرتے ہیں۔ لیکن نشوان حمیری نے اس رائے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شاخیں دراصل قضاعہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق خولان دو بڑے حصوں میں تقسیم ہے: خولان صعدہ (بن عامر/عمرو) خولان عاليہ (طیال) اور یہ دونوں خولان بن عمرو کی ایک ہی اصل سے ہیں۔ .[9] .[10]
ہمْدانی اس بارے میں کہتے ہیں:
“خولان عاليہ، خولان بن عمرو بن مالک بن حارث بن مرہ بن ادد بن عمر بن عریب بن زید بن کِہلان بن سبا کی اولاد میں سے ہیں۔ لیکن خود خولان عاليہ کے لوگ ابتدا سے انتہا تک اپنے آپ کو حمیر سے منسوب کرتے ہیں اور وہ صعدہ کے علاقے میں آباد خولان بن عمرو بن حاف سے اپنی قرابت کا انکار نہیں کرتے۔ خولان عاليہ کا نام صرف علاقوں کے فرق کی وجہ سے رکھا گیا ہے، نہ کہ نسب کے فرق کی وجہ سے، جیسے ازد شنوة اور ازد عمان دونوں ازد ہی ہیں یا طے سہل اور طے الجبل اور اسی طرح خولان شام، خولان یمن، ہمدان الجبال، ہمدان البون وغیرہ یہ سب نام جغرافیائی فرق کے لیے ہیں، نسبی اختلاف کے لیے نہیں۔”
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ الموسوعة اليمنية الموسوعة اليمنية - الصفحة 438 آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ عمدة القاري - العيني - ج ١ - الصفحة ١٥٣. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ عمدة القاري - العيني - ج ١ - الصفحة ٢٣٥. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام - جواد علي- ج8 - الصفحة 51. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ حويلة وخولان ويقطان وقحطان : دراسة في الجغرافية التاريخية والأنساب من خلال التوراة والمصادر التأريخية وكتابات المستشرقين - السلامي - PDF. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام - جواد علي- ج4 - الصفحة 53. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Albert Jamme,Inscription from Mahram Bilqis p.169
- ↑ المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام - جواد علي- ج4 - الصفحة 52. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ عمدة القاري - العيني - ج ١ - الصفحة ١٥٣. آرکائیو شدہ 2022-10-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ "حويلة وخولان ويقطان وقحطان - السلامي - الصفحة 105."۔ 2025-01-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-25