مندرجات کا رخ کریں

بنو خضیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بنو خضیر (یا "الخضیری") عرب انساب میں ایک نسبت ہے جو دو مختلف حوالوں سے معروف ہے: نجد میں بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اور بغداد کے ایک قدیم محلے سے منسوب عباسی دور کی علمی شخصیات۔[1][2]

تعارف

[ترمیم]

عربی مآخذِ انساب کے مطابق لفظ "خضیر" یا اس سے منسوب "الخضیری" کا تذکرہ مختلف جغرافیائی اور قبائلی پس منظر میں ملتا ہے۔ نجد کے علاقے القصیم میں یہ ایک خاندان کا نام ہے جس کا نسب عدنانی قبیلے بنو تمیم سے جا ملتا ہے۔[1] دوسری جانب، اسلامی مآخذ بالخصوص عراق اور شام میں یہ نسبت بغداد کے ایک تاریخی محلے "الخضیریہ" اور اس سے منسوب محدثین کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔[2]

لغوی تحقیق اور تلفظ

[ترمیم]

انساب کی کتب کے مطابق لفظ "الخضیری" کا درست تلفظ یہ ہے: خاء پر پیش، ضاد پر زبر، یاء ساکن، راء کے نیچے زیر اور آخر میں یاء مشدد — یعنی "الخُضَیْری"۔[1] یہ لفظ "الخضیر" کی طرف منسوب ہے، جسے عربی زبان کے قواعد کی رو سے لفظ "أخضر" (سبز) کی تصغیرِ ترخیم قرار دیا گیا ہے۔[1]

الخضیری خاندان (نجد)

[ترمیم]

نسب

[ترمیم]

اس خاندان کا شجرۂ نسب بنو تمیم سے جا ملتا ہے۔[1]

مساکن اور ہجرت

[ترمیم]

یہ خاندان بنیادی طور پر بریدہ اور اس کے مضافاتی علاقے "الخبوب" میں آباد ہے۔[1] خاندانی روایات کے مطابق یہ لوگ اصلاً نجد کے علاقے سدیر سے ہجرت کر کے القصیم آئے تھے۔[1] ان کے سدیر سے خروج کے بارے میں دو روایات ہیں: بعض کے مطابق وہ "حوطة سدیر" سے آئے، جبکہ بعض کے مطابق ان کا اصل وطن "جنوبیہ سدیر" تھا۔[1] خاندان کے ابناءِ عم اب بھی جنوبیہ سدیر میں سکونت پزیر ہیں۔[1]

خضیر اور محلہ الخضیریہ (عراق)

[ترمیم]
  • بنیاد: عباسی دور میں بغداد کے مشرقی جانب ایک محلہ واقع تھا جسے "الخضیریہ" کہا جاتا تھا۔[2] یہ محلہ ایک شخصیت "خضیر" کے نام سے منسوب تھا، جو موصل کے گورنر "صالح" کے آزاد کردہ غلام تھے (مولیٰ صالح صاحب الموصل)۔[2]
  • سوق الجرار: اسی محلے میں مٹی کے برتن بنانے والوں کا بازار تھا جسے "سوق الجرار" کہا جاتا تھا۔[2]
  • نسبت: اس محلے میں سکونت کے باعث محدث "محمد بن الطیب بن سعید الصباغ" کو "الخضری" یا "الخضیری" کہا جاتا تھا۔[2]

تشابہ اسماء: الخضیری اور الخیضری

[ترمیم]

عرب علمائے انساب نے ان دو ملتے جلتے ناموں کے مابین فرق واضح کیا ہے:

  • الخیضری: (خاء پر زبر، یاء ساکن، ضاد کے نیچے زیر) — یہ نسبت جدِ امجد "خیضری" یا "خیضر" کی طرف ہے۔[3]
  • اس نسبت سے معروف شخصیت دمشق کے شافعی فقیہ و محدث ابو الخیر محمد بن محمد بن عبد اللہ بن خیضر الزبیدی (متوفی 894ھ) ہیں، جو بلقاوی الاصل تھے۔[3]
  • ابو الخیر الزبیدی الخیضری نے امام سمعانی کی تصنیف "الانساب" کی تلخیص لکھی، جس میں ابن الاثیر اور الرشاطی کی کتب سے اضافے جمع کیے اور اسے "الاکتساب فی تلخیص کتب الانساب" کا نام دیا۔[3][4]

قابلِ ذکر شخصیت

[ترمیم]

محمد الخضیری بریدہ کے الخضیری خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک عالم تھے۔ وہ چودہویں صدی ہجری کے ساتویں عشرے میں بریدہ کے ان چند افراد میں شامل تھے جو کتب کے مطالعے کا شوق رکھتے تھے، جب کہ اس دور میں نجد میں طالبینِ علم کی تعداد محدود تھی۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 محمد بن ناصر العبودی (2010)۔ معجم أسر بریدہ۔ الریاض: دار الثلوثیہ۔ ج 5۔ ص 282
  2. 1 2 3 4 5 6 السمعانی (1962)۔ الأنساب۔ حیدرآباد دکن: مجلس دائرة المعارف العثمانیہ۔ ج 4۔ ص 185
  3. 1 2 3 السمعانی (1988)۔ الأنساب۔ بیروت: دار الجنان۔ ج 2۔ ص 425
  4. ↑ ابن العجمی (2011)۔ ذیل لب اللباب فی تحریر الأنساب۔ صنعاء: مرکز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامیہ۔ ج 1۔ ص 88