بنو شجاع
بنو شجاع عرب کا ایک قدیم قبیلہ اور بطن ہے جو بنیادی طور پر بنو قحطان کے مشہور گروہ جذام کی ایک شاخ بنو صخر سے تعلق رکھتا ہے اور تاریخی طور پر بلاد شام کے علاقوں میں آباد رہا ہے۔ [1]
نسب و اصل
[ترمیم]علم الانساب کے ماہرین کے مطابق "بنو شجاع" کا تعلق قحطان کے بطن جذام سے ہے۔ [1] یہ قبیلہ بنو صخر کی ایک ذیلی شاخ ہے، جو بلاد عرب کے معزز اور جنگجو قبائل میں شمار ہوتے ہیں۔ [2] تاریخی طور پر ان کی جڑیں یمنی قبائل سے ملتی ہیں جو ہجرت کر کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئے تھے۔ [1]
جغرافیائی مساکن
[ترمیم]"بنو شجاع" کے افراد قدیم زمانے میں بلاد شام کے علاقے الکرک میں آباد تھے۔ [1] یہ اپنے مادری قبیلے "بنی صخر" کے ساتھ ان علاقوں میں مقیم رہے جہاں ان کے دیگر حلیف قبائل بھی موجود تھے۔ [2] ان کے مساکن صحرائی اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل تھے جو دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم سمجھے جاتے تھے۔ [2]
علمی و فقہی خدمات
[ترمیم]تاریخ میں اس قبیلے یا نام سے منسوب ایک اہم علمی خاندان کا ذکر ملتا ہے جسے "الشجاعی" کہا جاتا ہے۔ [3] اس خاندان کے ممتاز افراد میں "ابو حامد احمد بن محمد الشجاعی" شامل ہیں، جو ایک جلیل القدر شافعی فقیہ اور امام تھے۔ [4] اسی طرح ان کے بھتیجے "ابو نصر محمد بن محمود الشجاعی" (المعروف بہ "سرة مرد") بھی ایک فاضل امام اور کثیر العبادت شخصیت تھے جنھوں نے شافعی مذہب کی ترویج کے لیے کثیر سرمایہ اور وقت صرف کیا۔ [3] ان شخصیات کا علمی فیض سرخس، بخارا اور موصل تک پھیلا ہوا تھا۔ [3]
لغوی و علمی فرق
[ترمیم]ماہرینِ انساب نے "بنو شجاع" اور "بنو شجع" کے درمیان باریک فرق بیان کیا ہے۔ "بنو شجاع" کی نسبت "الشجاعی" (بضم الشین) ہے جبکہ "بنو شجع" کی نسبت "الشجعی" (بكسر الشین) کی جاتی ہے۔ [5] "بنو شجع" کا تعلق کنانہ کی شاخ عامر بن لیث سے ہے، جو ایک عدنانی گروہ ہے۔ [5] اس کے برعکس "بنو شجاع" خالص قحطانی نژاد ہیں۔ [1]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 القلقشندي (1980)۔ نهاية الأرب في معرفة أنساب العرب۔ دار الكتاب اللبناني۔ ج 1۔ ص 305
- 1 2 3 عمر رضا کحالہ (1994)۔ معجم قبائل العرب القديمة والحديثة۔ مؤسسة الرسالة۔ ج 3۔ ص 603
- 1 2 3 السمعاني (1988)۔ الأنساب۔ دار الجنان۔ ج 3۔ ص 403
- ↑ محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ دار الفكر العربي۔ ج 2۔ ص 186
- 1 2 شہاب الدین العجمی (2011)۔ ذیل لب اللباب فی تحریر الانساب۔ مرکز النعمان۔ ج 1۔ ص 369