بنو کنانہ
| Kināna بَنُو كِنَاَنَة | |
|---|---|
| مضر بن نزار Arab tribe | |
Banner of the Kinana at جنگ صفین (657) | |
| مقام | Areas of تہامہ and حجاز around مکہ (5th century-present) جند فلسطین (7th–12th centuries) |
| آباو اجداد | Kinana ibn Khuzayma ibn Mudrikah ibn Ilyas ibn Mudar |
| شاخیں | |
| مذہب | اسلام |
کنانہ (انگریزی: Kinana) (عربی: كِنَاَنَة) تہامہ کے ساحلی علاقے اور حجاز کے پہاڑوں میں مکہ کے آس پاس مقیم ایک عرب قبیلہ ہے۔[1] مکہ کے قریش، اسلامی پیغمبر محمد بن عبد اللہ کا قبیلہ، کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ پوری عرب دنیا میں جدید دور کے متعدد قبائل اپنا سلسلۂ نسب اس قبیلے سے نکالتے ہیں۔[2] بنو کنانہ عرب کا ایک عدنانی قبیلہ ہے، جو مکہ مکرمہ اور تہامہ کے خطے میں آباد تھا اور جس کی ایک شاخ سے قبیلہ قریش اور محمد بن عبد اللہ کا نسب جڑتا ہے۔[3][4]
نسب اور خاندانی پس منظر
[ترمیم]کلاسیکی عرب کتبِ انساب میں بنو کنانہ کا شجرۂ نسب یوں بیان کیا گیا ہے:
"کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ (عمرو) بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان"۔[5]
اس نسب نامے کے مطابق بنو کنانہ کا تعلق عدنانی عربوں کی شاخ بنو مضر سے ہے۔[5] قبیلے کا نام اس کے جدِ امجد کنانہ سے منسوب ہے۔[5] اس قبیلے کی شاخ قریش سے پیغمبرِ اسلام محمد بن عبد اللہ کا تعلق تھا۔[3][5]
جغرافیائی مساکن اور حدود
[ترمیم]بنو کنانہ کا اصل مسکن حجاز، بالخصوص مکہ مکرمہ اور تہامہ کا ساحلی علاقہ تھا۔[5] مآخذ کے مطابق ان کے مساکن کی تفصیل درج ذیل ہے:
- تہامہ کا خطہ: بنو کنانہ تہامہ کے ساحلی اور پہاڑی علاقوں میں آباد تھے، جو مکہ مکرمہ سے تقریباً دو راتوں کی مسافت پر واقع ہیں اور ان کے علاقوں کے چشمے اور واٹر چینلز (أودية) بحرِ احمر میں گرتے تھے۔[5]
- قبیلۂ ہذیل کے ساتھ حدود: بنو کنانہ کی جغرافیائی سرحدیں قبیلہ ہذیل کے ساتھ ملتی تھیں۔ تہامہ میں واقع پہاڑیوں کا ایک حصہ کنانہ کی ملکیت تھا جبکہ دوسرا حصہ ہذیل کا تھا اور تہامہ کی کئی وادیوں کا بالائی حصہ ہذیل کے پاس اور زیریں حصہ بنو کنانہ کے پاس آباد تھا۔[5]
بنو کنانہ کے بطون اور شاخیں
[ترمیم]بنو کنانہ کی کئی ذیلی شاخیں اور بطون تاریخِ عرب میں معروف رہے ہیں:
- بنو عبد مناۃ بن کنانہ: یہ بنو کنانہ کا ایک بڑا بطن تھا۔[5] اس کے تحت "بنو بكر بن عبد مناة بن كنانة" جیسے ذیلی خاندان آتے ہیں۔[6] بنو بکر کے تحت "بنو الديل بن بكر بن عبد مناة" کا بطن وجود میں آیا، جو بنو کنانہ کے عسکری کردار میں شامل رہا۔[6] اسی طرح "بنو قين بن عامر بن عبد مناة" بھی اسی کا بطن ہے۔[5]
- بنو مالک بن کنانہ: کنانہ کی ایک بنیادی شاخ، جس کا ایک ذیلی بطن "بنو مخدج بن عمر بن ثعلبہ بن الحارث بن مالک بن کنانہ" کے نام سے معروف ہے۔[7]
- بنو جذیمہ بن کنانہ: اس شاخ سے "کنانہ طلحہ" جیسی ذیلی شاخیں نکلیں، جنھوں نے بعد میں ہجرت کر کے الگ پہچان بنائی۔[5]
- بنو مدلج بن مرہ بن عبد مناۃ بن کنانہ: عبد مناۃ کی ایک شاخ، جس سے قیافہ شناس اور سیرت کے مآخذ میں مذکور شخصیت سراقہ بن مالک بن جعشم کا تعلق بتایا جاتا ہے۔[8]
اسلامی روایت اور سیرت کے مآخذ میں ذکر
[ترمیم]بنو کنانہ کا ذکر کتبِ سیرت اور کلاسیکی عرب ادب میں ملتا ہے، جہاں اس کا تعلق محمد بن عبد اللہ کے نسب سے بیان کیا گیا ہے۔[3] عرب شاعر حسان بن ثابت سے منسوب ایک شعر میں کنانہ کو نسب کے حوالے سے سراہا گیا ہے:
كِنَانة صفوة الصفو والخيرة التيتخير منها للنبوة منقب[3]
ہجرت اور مصر میں آباد کاری
[ترمیم]اسلامی فتوحات کے بعد بنو کنانہ کے متعدد خاندانوں نے حجاز سے ہجرت کی اور مصر میں سکونت اختیار کی:
- کنانہ طلحہ کی ہجرت: بطن جذیمہ سے تعلق رکھنے والے "کنانہ طلحہ" کا ذکر مصر کے تاریخی مآخذ میں ملتا ہے۔ مؤرخ القضاعی کے مطابق انھوں نے مصر کی جانب ہجرت کی اور مقام "الأشمونيين" میں قریش اور دیگر عرب قبائل کے ساتھ آباد ہوئے۔[5]
نسبی امتیاز: کنانہ کلب
[ترمیم]عرب انساب کے مآخذ میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ بنو کنانہ (عدنانی قبیلہ) کے علاوہ ایک اور بطن بھی اسی نام سے معروف تھا جس کا تعلق قبیلہ قضاعہ سے تھا:
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Watt 1986, p. 116
- ↑ M. Th. Houtsma، مرتب (1993)۔ "Kinana"۔ E. J. Brill's First Encyclopaedia of Islam, 1913–1936۔ Brill۔ ج 4۔ ص 1017–1018۔ ISBN:9789004097902
- 1 2 3 4 محمد سليمان الطيب (2001)۔ موسوعة القبائل العربية۔ قاہرہ: دار الفكر العربي۔ ج 1۔ ص 50
- ↑ القلقشندي (1980)۔ نهاية الأرب في معرفة أنساب العرب۔ بیروت: دار الکتاب اللبناني۔ ج 1۔ ص 1
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 عمر رضا كحالة (1994)۔ معجم قبائل العرب القديمة والحديثة۔ بیروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 3۔ ص 998
- 1 2 السمعاني (1962)۔ الأنساب۔ حیدرآباد الدکن: مجلس دائرة المعارف العثمانية۔ ج 7۔ ص 73
- ↑ الحافظ الدمياطي (2022)۔ أخبار قبائل الخزرج۔ مدینہ منورہ: الجامعة الإسلامية۔ ج 1۔ ص 314
- ↑ السمعاني (1962)۔ الأنساب۔ حیدرآباد الدکن: مجلس دائرة المعارف العثمانية۔ ج 7۔ ص 116
- 1 2 السمعاني (1962)۔ الأنساب۔ حیدرآباد الدکن: مجلس دائرة المعارف العثمانية۔ ج 11۔ ص 151
| ویکی ذخائر پر بنو کنانہ سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |